محبت اور عبادت میں موحد ہونا چاہیئے... جس کے لڑ لگ جاو.. اُسی کے ہو کر بیٹھے رہو... در بدر پھرتے رہو گے تو نامراد رہو گے.. محبت ہو خوا...
اُلجھی ہوئی اُلجھنوں کا سُلجھا سا حل پُر سکون لہجہ، نرم مزاج، دھیما تبسّم 💢حباب💢
Proud to be a teacher
yes we can - ہاں ہم کر سکتے ہیں
ڈوئی تے چمٹا کی منگدا اللہ کولوں مِینہ منگدا بچپنے کی بات ہے جب بارانِ رحمت کی طلب ہوتی، دعاوں کے بعد آخری حل یہ ہوتا تھا کہ محلے کے ...
Doi te chimta ki mangda- kashif Habaab-ڈوئی تے چمٹا کی منگدا- کاشف حباب
ڈوئی تے چمٹا کی منگدا
اللہ کولوں مِینہ منگدا
بچپنے کی بات ہے جب بارانِ رحمت کی طلب ہوتی، دعاوں کے بعد آخری حل یہ ہوتا تھا کہ محلے کے بچے ایک گروپ بنا لیتے.. ہاتھ میں اک کپڑا جسے چاروں کونوں سے تھاما ہوتا، کسی اک بچے کے چہرے پر سیاہی (کالک) لگا کر ہر دروازے پر صدا لگائے جاتے... ڈوئی تے چمٹا کی منگدا ۔ ۔ ۔ اللہ کولوں مِینہ منگدا..
لوگ اِس سوچ میں پڑے بنا کہ یہ حقدار ہیں یا پیشہ ور، کسی تنظیم کے بچے ہیں یا مسجد کے چندہ جمع کرنے والے، بس آٹا، دانہ، پیسہ دیتے جاتے...
اس اکٹھے کیے ہوئے آٹے گندم کو بیچ کر پیسوں سے کوئی میٹھی چیز.. میٹھے مکھانے،ٹانگر(دیہات کی سویٹس) یا حسبِ استطاعت گندم کے دلیئے کی دیگ پکا کر اللہ کی مخلوق کو کھلائی جاتی.. یہ بہت عمدہ فارمولہ تھا.. اللہ سے صلح کرنے کا.. اجتماعی طور پر کی گئی نیکی اور گناہ بہت اثر رکھتا ہوتا ہے.. سو بچے ایک خاص "کوڈ ورڈ" میں اللہ سے مینہ مانگتے تھے.. تو واقعی بارانِ رحمت ہوتی تھی..اب ہم اللہ سے ایسی ڈیلنگ نہیں کر پاتے جس طرح وہ بچے کرتے تھے.. اُن کے ڈوئی چمٹے میں کوئی خاص منطق تھا جو ابرِ رحمت کو کھینچ لاتا تھا.
کاشف حباب
Allama amin khayal - urdu mahia nigari - kashif Habaab- yadon k safeeny- pani ki kahani
ٹیوشن کلچر- پاکستان کا تعلیمی معیار-کاشف حباب
ہے کھیل آپ و خاک کا سارا جو بھی دنیا میں جمال دیکھا Reality or human beauty
Koi cheek eho jai mar dila- andar da shor na sun pawan- کوئی چیک ایہو جئی مار دلا- اندر دا شور نہ سن پاواں- کاشف حباب- Kashif Habaab ...
Nizam e zulm نظام ظلم و عدل.. عدل کے منکر
https://www.urdupoint.com/poetry/user-poetry/kashif-habaab-19/adat-wadat-par-gai-hogi---uski-raghbat-barh-gai-hogi-5919. html
کاشف حباب- امین خیال - وسیم عالم- شعیب مرزا- روزنامہ ابتک سپیشل














Follow Us
Were this world an endless plain, and by sailing eastward we could for ever reach new distances